ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو میں بھی سوشیل میڈیا پر طالبہ کا فوٹو وائرل کرنےپر طالبہ کی ہتک : پولس تھانے میں کیس درج

منگلورو میں بھی سوشیل میڈیا پر طالبہ کا فوٹو وائرل کرنےپر طالبہ کی ہتک : پولس تھانے میں کیس درج

Wed, 10 Jan 2018 19:34:41    S.O. News Service

منگلورو:10/ جنوری (ایس اؤنیوز)چک مگلورو ضلع کے موڈیگیرے کی کالج طالبہ کا فوٹوسوشیل میڈیا میں پوسٹ کرکے اس کی ہلاکت کا سبب بننے والے واقعہ کے فوری بعد منگلورو کاراسٹریٹ کالج کی ایک لڑکی کا فوٹوسوشیل میڈیاپر پوسٹ کرکے طالبہ کی ہتک کئے جانے کا الزام عائد کیا اور اپنی عزت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف پولس تھانے میں شکایت درج کرتےہوئے جرأت کا کام گیا ہے۔

شہر کے کاراسٹریٹ میں واقع سرکاری کالج کے ایم کام میں زیر تعلیم ایک طالبہ ،بولار کے مولی ہتلو میں مقیم مادھوری بولار نے شہر کےپولس کمشنر کو شکایت سونپتے ہوئے ہتک عزت کئے جانے کا الزام عائدکیاہے۔ مادھوری ایس ایف آئی دکشن کنڑا ضلع کی سکریٹری ہیں۔

شکایت میں طالبہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال تعلیمی کیمپ جانے کے دوران اپنے تعلیمی ساتھیوں کے ساتھ بس میں لی گئی سیلفی کو میرے ساتھیوں نے فیس بک پر اپ لوڈ کیا تھا۔ تنظیمی کاموں کے لئے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کام کرنےکے دوران لئے گئے گروپ فوٹو کو فیس بک سے چرا کر واٹس اپ پر وائر ل کرتے ہوئے مسلم لڑکے کے ساتھ زبردستی منسلک کئے جانے کی بات کہی ہے۔ تنظیمی سرگرمیوں کے دوران طلبا تحریک کے ساتھی گنیش بولار، سہاس اڈگ اور حمزہ کنیا کے ساتھ نکالا گیا گروپ فوٹو فیس بک پر اپ لوڈ کیا گیا تھا، مجھے اس تعلق سے کوئی تکرار بھی نہیں ہے ۔ لیکن گذشتہ تین دنوں سے فیس بک سے یہ فوٹو چراکر شرپسند عناصر واٹس اپ کے ذریعے غلط استعمال کررہے ہیں۔ طالبہ نے الزا م لگایا کہ لڑکے اور لڑکیوں کی آپسی بات چیت پر اعتراض جتاتے ہیں ساتھ ہونے پر لوجہاد کے نام پر جھوٹی تشہیر کرنے والے سنگھ پریوار کے کارکنان نے گروپ فوٹو کو واٹس اپ پر وائرل کرنےکا الزام لگایا۔

طالبہ نے کہا ہے کہ حمزہ ہندو لڑکیوں کے ساتھ گھوم رہا ہے ، اس پر ہندو تنظیموں کے کارکنان نگاہ رکھ کر کرارجواب دینے کا پیغام کے ساتھ گروپ فوٹو سوشیل میڈیا پر پھیلایا گیا ہے۔ طالبہ نے کہاکہ مجھے اس واقعہ سے ذہنی اذیت پہنچی ہے ، میری بے عزت ہوئی ہے، یہ فوٹو یوں ہی وائرل ہوگا تو مجھے اور میرا خاندان مختلف ذرائع سے اذیت کا شکار ہوسکتاہے، میری اعلیٰ تعلیم کے لئے رکاوٹ بنے گا، اسی طرح ایک طلبا تحریک سے جڑ ی میری سماجی زندگی کو نقصان پہنچاہے، واقعہ سے میرے والدین بھی حیرت زدہ ہیں، حال ہی میں موڈیگیری میں ایسے ہی واقعہ سے اذیت کا شکار ہوکر ایک طالبہ بے عزتی کو نہ سہتے ہوئے خود کشی کئے جانے کی جانکاری میڈیاسے ملی ہے۔ ایسے واقعات کو نظر اندازکیا گیا تو مستقبل میں ایسے مزید حادثات ہونے کی مادھوری نے پولس کمشنر کو دی گئی شکایت میں کہاہے ۔ واقعہ سے مجھے اذیت اور دکھ پہنچاہے ، میرے ساتھ ہوئی ناانصافی کے لئے وجہ سبب بننے والوں پر قانونی کارروائی کا مادھوری نے پرزور مطالبہ کیاہے۔


Share: